الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ عَامًا فِي تَحْرِيمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ باب: سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ يَا أَبَا أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ غُفْرًا أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا۔ حبیب بن عبیدر حبی کہتے ہیں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ ، خالد بن یزید کے پاس گئے،انہوں نے ان کے لیے تکیہ رکھا، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ یہ ریشم کا ہے، وہ پچھلے پاؤں ہٹ کر اس سے علیحدہ ہو گئے، یہاں تک کہ مجلس کے آخر تک پہنچ گئے، جبکہ خالد کسی آدمی سے بات کر رہے تھے، پھر جب وہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو ان سے کہا: اے میرے بھائی! آپ نے کیا سمجھا ہے؟ کیا آپ کا خیال ہے یہ ریشم سے ہے؟ تو خالد نے شبہ دور کیا۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی امید رکھتا ہو، وہ ریشم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ خالد نے ابو امامہ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! معاف کرنا، خالد مجھے کہتا ہے کہ کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ سے سنی ہے، ہم ایسے لوگوں میں تھے کہ جنہوں نے ہمیں جو کچھ بیان کیا، انھوں نے اس میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہمیں جھٹلایا گیا۔