حدیث نمبر: 8028
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ يَا أَبَا أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ غُفْرًا أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حبیب بن عبیدر حبی کہتے ہیں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ ، خالد بن یزید کے پاس گئے،انہوں نے ان کے لیے تکیہ رکھا، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ یہ ریشم کا ہے، وہ پچھلے پاؤں ہٹ کر اس سے علیحدہ ہو گئے، یہاں تک کہ مجلس کے آخر تک پہنچ گئے، جبکہ خالد کسی آدمی سے بات کر رہے تھے، پھر جب وہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو ان سے کہا: اے میرے بھائی! آپ نے کیا سمجھا ہے؟ کیا آپ کا خیال ہے یہ ریشم سے ہے؟ تو خالد نے شبہ دور کیا۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی امید رکھتا ہو، وہ ریشم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ خالد نے ابو امامہ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! معاف کرنا، خالد مجھے کہتا ہے کہ کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ سے سنی ہے، ہم ایسے لوگوں میں تھے کہ جنہوں نے ہمیں جو کچھ بیان کیا، انھوں نے اس میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہمیں جھٹلایا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی کی نعمتوں سے مراد اس کی مغفرت، رحمت، جنت میں داخل ہونا اور جنت کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8028
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم الغساني، أخرجه الطبراني في الكبير : 7511 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22658»