حدیث نمبر: 8025
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا میرے اوپر یمن کے دو جوڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ضمرہ! کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ یہ دو جوڑے تمہیں جنت میں داخل کریں گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے لئے استغفار کریں تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اتار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کو بخش دے۔ پس وہ جلدی جلدی گئے اور ان دونوں کو اتار دیا۔

وضاحت:
فوائد: … ظاہر یہی ہے کہ یہ دو جوڑے ریشمی تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8025
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، فانه كان يدلس عن الضعفاء ويدلس تدليس التسوية، أخرجه البزار: 2470، والطبراني في الكبير : 8158 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19188»