الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَنْعِ النِّسَاءِ مِنَ التَّحَلَّى بِالذَّهَبِ وَجَوَارِهِ لَهُنَّ بِالْفِضَّةِ باب: خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8000
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَنَا أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ قَالَتْ فَقُلْنَا لَا قَالَ أَمَا تَخَافَانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ أَدِّيَا زَكَاتَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اور میری خالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں، ہم نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس سے خوف نہیں آتا کہ ان کے عوض تمہیں اللہ تعالیٰ آگ کے دو کنگن پہنادے، ان کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔