الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِي وُجُوبِ مَعْرِفَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَوْحِيدِهِ وَالاعْتِرَافِ بِوُجُودِهِ باب: اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا أَنَّهُ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّهُ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ، قَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ عُزَيْرًا ابْنُ اللَّهِ، فَقَالَ الْيَهُودُ: وَأَنْتُمُ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنَ النَّصَارَى فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: نَحْنُ النَّصَارَى، فَقَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ، قَالُوا: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: ((هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا فَأَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنَعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهَا)) قَالَ: ((لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ)).سیدنا طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ، جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اخیافی بھائی ہے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یہ خواب دیکھا کہ میں یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اور ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا: اگر تم عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہتے تو تم بہترین قوم تھے، انہوں نے کہا: تم مسلمان بھی بہترین قوم ہوتے، اگر صرف یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے جو) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہتا ہے۔ پھر میں عیسائیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا اور ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عیسائی ہیں، میں نے کہا: اگر تم حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، لیکن انہوں نے آگے سے کہا: اگر تم بھی یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے جو) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہتا ہے تو تم بھی بہترین قوم ہوتے۔ جب صبح ہوئی تو بعض لوگوں کو یہ خواب بیان کرنے کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو ساری بات بتلا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے کسی کو یہ خواب بتلایا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، پھر جب لوگوں نے نماز ادا کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے اور تم میں سے بعض لوگوں کو بتلا بھی دیا ہے، بات یہ ہے کہ تم لوگ ایک کلمہ کہتے تھے، (میں اسے ناپسند تو کرتا تھا) لیکن تم کو منع کرنے سے شرم و حیا مانع تھی، (اب بات کھل گئی ہے لہٰذا) تم یہ نہ کہا کرو کہ (وہی کچھ ہوتا ہے جو) اللہ چاہتا ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) چاہتا ہے۔“