حدیث نمبر: 7997
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَتْهُ خَالَتِي قَالَتْ فَجَعَلَتْ تُسَائِلُهُ وَعَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَسُرُّكِ أَنَّ عَلَيْكِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا خَالَتِي إِنَّمَا يَعْنِي سِوَارَيْكِ هَذَيْنِ قَالَتْ فَأَلْقَتْهُمَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُنَّ إِذَا لَمْ يَتَحَلَّيْنَ صَلِفْنَ عِنْدَ أَزْوَاجِهِنَّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَمَا تَسْتَطِيعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَجْعَلَ طَوْقًا مِنْ فِضَّةٍ وَجُمَانَةً مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُخَلِّقَهُ بِزَعْفَرَانٍ فَيَكُونُ كَأَنَّهُ مِنْ ذَهَبٍ فَإِنَّ مَنْ تَحَلَّى وَزْنَ عَيْنِ جَرَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ جِرَّ بَصِيصَةٍ كُوِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتی تھیں، کہتی ہیں: میں ایک دفعہ آپ کے پاس تھی کہ میری خالہ آ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے شروع کردئیے، انھوں نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرتی ہو کہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے جائیں؟ میں نے خالہ سے کہا: یعنی تمہارے یہ دو کنگن آگ کے بن جائیں، انہوں نے وہ اتار پھینکے اور کہا: تو پھر اگر عورتیں زیبائش اختیار نہ کریں تو اپنے خاوندوں کے ہاں قابل توجہ نہیں رہتیں، اے نبی اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم ایسا نہ کر سکو گی کہ چاندی کا ہار بنا لو، یا چاندی سے تیار کردہ موتیوں کا ہار بنا لو، پھر اسے زعفران سے رنگ لو، یہ سونے کی مانند ہی ہوجائے گا، یاد رکھو کہ جس نے ایک ٹڈی کے وزن برابر سونے سے زیبائش اختیار کی یا معمولی سونا بھی پہنا تو اسے روز قیامت داغا جائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7997
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28154»