الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَنْعِ النِّسَاءِ مِنَ التَّحَلَّى بِالذَّهَبِ وَجَوَارِهِ لَهُنَّ بِالْفِضَّةِ باب: خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7996
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا فَقَالَ أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ قَالَتْ فَأَلْقَيْتُهُمَا فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کروں، جب میں قریب ہوئی تو مجھ پر سونے کے دو کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی چمک دیکھ کر فرمایا: یہ کنگن اتار دو، اے اسماء! کیا تمہیں خوف نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنا دے؟ میں نے انہیں اتار پھینکا اور مجھے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کس نے ان کو اٹھایا ہے۔