حدیث نمبر: 7994
عَنْ أُمِّ الْكِرَامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَجَّتْ قَالَتْ فَلَقِيتُ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَثِيرَةَ الْحَشَمِ لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةُ فَقُلْتُ لَهَا مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ قَالَتْ كَانَ جَدِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِهَابَانِ مِنْ نَارٍ فَنَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ام کرام سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میں نے حج کیا، میری ملاقات ایسی عورت سے ہوئی جس کے خدمت گاروں کی کافی تعداد تھی، جتنی عورتیں خدمت گزاری پر مامور تھیں، سب نے چاندی کے زیورات پہن رکھے تھے۔ میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ کی خدمت گاروں میں سے ہر ایک کے زیورات چاندی کے ہیں۔ اس نے کہا: میرے دادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، میں بھی ان کے ساتھ تھی میں نے سونے کی دو بالیاں پہنی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔ اس وقت سے لے کر ہمارے گھر والوں میں سے ہر ایک چاندی کے زیورات ہی پہنتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7994
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ام الكرام، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 2/ 336 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27910»