حدیث نمبر: 7979
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب روم والوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ سے کہا کہ وہ لوگ تو صرف وہی خط پڑھتے ہیں، جس پر مہر لگی ہوئی ہو، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، گویا کہ میں اب بھی اس انگوٹھی کی سفیدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ تھے۔

وضاحت:
فوائد: … انگوٹھی پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کروانے کی وجہ مہر بنانا تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7979
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7162، ومسلم: 2092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12750»