الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهَةِ خَاتَمِ الصُّفْرِ وَالْحَدِيدِ وَاسْتِحْبَابِ خَاتَمِ الْفِضَّةِ باب: پیتل اور لوہے کی انگوٹھی کی کراہت اور چاندی کی انگوٹھی کے استحباب کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَجَاءَ وَقَدْ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ قَالَ فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِنْ فِضَّةٍ۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ تو نے جنت والوں کے زیورات پہن رکھے ہیں (جو کہ دنیا میں جائز نہیں ہیں)؟ اس نے کہا: پھر میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: میں تجھ سے بت پرستوں کی بوپا رہا ہوں۔ اس نے کہا: تو پھر اے اللہ کے رسول!: میں کس چیز سے انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاندی سے بنوا لو۔