الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ باب: سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب¤سونے کی انگوٹھی کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَنَا زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ يَقْرَأُ كَمَا تَقْرَأُ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَمَرْتَ بَعْضَهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْكَ قَالَ أَجَلْ فَقَالَ لِي اقْرَأْ فَقَالَ ابْنُ حُدَيْرٍ تَأْمُرُهُ يَقْرَأُ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأُخْبِرَنَّكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمِكَ وَقَوْمِهِ قَالَ فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ مَرْيَمَ فَقَالَ خَبَّابٌ أَحْسَنْتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا هُوَ قَرَأَهُ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِخَبَّابٍ أَمَا آنَ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَا تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ وَالْخَاتَمُ ذَهَبٌ۔ علقمہ کہتے ہیں ہم ایک دن سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور زید بن حدیر بھی ہمارے ساتھ تھے، پھر ہمارے پاس سیدنا خباب رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ تمام اسی طرح قرأت کرتے ہیں، جس طرح تم پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں ان میں سے بعض کو حکم دیتا ہوں کہ وہ آپ پر پڑھے؟ انھوں نے مجھے کہا: جی ہاں، پڑھو۔ ابن حدیر نے کہا: آپ اسے حکم دیتے ہیں کہ یہ پڑھے، حالانکہ وہ ہم سے زیادہ پڑھا ہوا نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں تمہیں وہ خبر دے دیتا ہوں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیری قوم اور اس کی قوم کے لئے فرمائی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے سورۂ مریم کی پچاس آیتیں پڑھیں۔ جناب نے کہا: آپ نے اچھا کیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کوئی بھی چیز پڑھوں گا، تو اس نے بھی وہ پڑھا ہواہے، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اب اس انگوٹھی کا وقت آ گیا ہے کہ اسے پھینک دیا جائے، انہوں نے کہا: آپ آج کے بعد میرے اوپر سونے کی انگوٹھی نہیں دیکھیں گے۔