الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ باب: سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب¤سونے کی انگوٹھی کا بیان
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَضَرَبَ بِهَا كَفِّي وَقَالَ اطْرَحْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَطَرَحْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ قَالَ قُلْتُ طَرَحْتُهُ قَالَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَسْتَمْتِعَ بِهِ وَلَا تَطْرَحَهُ۔ سالم بن ابی جعد اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا، میں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چھڑی لی اور میرے ہاتھ پر ماری اور فرمایا: اسے پھینک دو۔ وہ آدمی کہتا ہے: میں باہرنکلا اور واقعی اس کو پھینک دیا، پھر جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگوٹھی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: میں نے تو اسے پھینک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو حکم دیا تھا کہ تو ا س سے فائدہ اٹھا لے اور اس کو مت پھینک۔