حدیث نمبر: 7964
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ لِمَ تَخَتَّمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْبَرَاءُ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يَقْسِمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ قَالَ فَقَسَمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ فَرَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ ثُمَّ خَفَّضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ خَفَّضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَيْ بَرَاءُ فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَقَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي ثُمَّ قَالَ خُذْ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ محمد بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، لوگوں نے ان سے کہا: تم نے سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، جبکہ آپ کے سامنے مال غنیمت پڑا تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم کر رہے تھے، قیدی تھے اور گھر کا سازو سامان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تقسیم کیا، یہاں تک کہ یہ انگوٹھی باقی رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نگاہ اٹھائی اور اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، پھر نگاہ جھکائی، پھر اٹھائی اور انہیں دیکھا، پھر نگاہ جھکائی اور پھر نگاہ اٹھا کر ان کو دیکھا۔ پھر فرمایا: اے براء! پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ انگوٹھی اٹھائی اور مجھے پہنا دی اور فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تجھے پہنایا ہے، وہ لے لو۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اب تم مجھے یہ اتارنے کا حکم کیوں دیتے ہو؟ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اے براء! جو تجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پہنایا ہے وہ پہن لے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اس قسم کے واقعے کو اس وقت پر محمول کیا جائے، جب سونا حلال تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7964
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك الجوزجاني علي نكارة في متنه، أخرجه ابويعلي: 11708، وابن ابي شيبة: 8/ 470 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18803»