الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْإِبِلِ باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 796
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازبؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا براء بن عازب ؓکی حدیث یوں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹ کے گوشت سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتُصَلُّوْا فِیْھَا، فَاِنَّھَا مِنَ الشَّیَاطِیْنِ۔)) … تم ان میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطانوں میں سے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں نماز پڑھو، پس بیشک یہ جانور تو برکت ہے۔ معلوم ہوا کہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مزاج میں شیطنت پائی جاتی ہے، اس وجہ سے وہ نمازی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب، مینگنیاں اور گوبر وغیرہ پاک ہے، ایک دلیل کا ذکر ان احادیث میں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جبکہ ان باڑوں کی ہر جگہ پیشاب اور مینگنیوں سے متاثر ہوتی ہے، حدیث نمبر (۴۵۳)کی شرح میں اس مسئلہ پر بحث کی جا چکی ہے۔