حدیث نمبر: 7953
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي فَشَقَقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ قَالَ فَقَالَتْ تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ مَاذَا صَنَعْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے، ریشمی لباس اور معصفر لباس سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایاہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی دھاری دار ایک پوشاک مجھے دی، جب میں اسے پہن کرنکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے تو نہیں دی، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور چادر کے دو ٹکڑے کر دئیے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ نے یہ کیا کیا؟ میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ پہننے سے منع فرمایا ہے، تم پہن لو اور دیگر عورتوں کو پہنا دو۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ایک اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے کہ جو چیز معاشرے کے بعض افراد کے لیے جائز ہو یا جس چیز میں مفید پہلو بھی موجود ہو، وہ ایک دوسرے کو تحفہ بھی دی جا سکتی ہے اور اس کا کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 329، وابوعوانة: 2/ 174، وأخرجه مختصرا مسلم: 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 710»