الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7952
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیاں، چاندی کے برتن، حریر، دیباج اور استبرق، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں اور قسی سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … باریک ریشم کو سندس، موٹے اور کھردرے ریشم کو استبرق کہتے ہیں، جب ریشم میں سونے کی تاریں بنی جائیں، تب بھی اسے استبرق کہتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ ہر قسم کا ریشم مردوں پر حرام ہے، باریک ہو یا موٹا، نرم ہو یا سخت۔