الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَنَهَانَا عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَعَنِ الْحَرِيرِ وَالْحَلَقِ الذَّهَبِ ثُمَّ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَى النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ۔ مالک بن عمیر کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے، سلام کہا اور پھر کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المومنین! جس چیز سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، آپ اس سے ہمیں بھی منع کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کدو سے بنے ہوئے برتن، سبز مٹکے، تارکول والے برتن اور تنا کرید کر بنائے ہوئے لکڑی کے برتن سے منع فرمایاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ریشمی لباس، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے، ریشم، سونے کی انگوٹھی اور چھلے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کا ایک جوڑا دیا، میں وہ پہن کر باہر آیا تا کہ لوگ میرے اوپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہنا ہوالباس دیکھیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر یہ دیکھ کر مجھے اتارنے کا حکم دیا، پس اس کا ایک حصہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھیج دیا اور دوسرا حصہ اپنی دیگر عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔