الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7949
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرْكَبُهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ ایسے گدیلے رکھ کر سوار ہو تا ہوں، نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں، جس کے کناے ریشم کے ہوں اور نہ ریشمی لباس پہنوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے الْاُرْجُوَانِ کے معانی سرخ کے کیے ہیں، دراصل یہ لفظ ارغوان سے معرب ہے، یہ سرخ رنگ کا پھول ہوتا ہے، گدیلوں کو ارغوان کہنے کا مطلب رنگ میں تشبیہ دینا ہے، یعنی سرخ رنگ کے گدیلے، پہلے گزر چکا ہے کہ میثرۃ (گدیلا) سے روکنے کی وجہ ریشم تھا جو اس کی بنتی میں استعمال ہوتا تھا۔