الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7948
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيَّةِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْمُفْدَمِ قَالَ يَزِيدُ وَالْمِيثَرَةُ جُلُودُ السِّبَاعِ وَالْقَسِّيَّةُ ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ مِنْ إِبْرَيْسَمٍ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالْمُفْدَمُ الْمُشَبَّعُ بِالْعُصْفُرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی گدیلوں، ریشمی لباس، سونے کا چھلہ اور انتہائی سرخ لباس سے منع فرمایا ہے۔یزید راوی کہتے ہیں: میثرہ سے مراد درندوں کے چمڑے ہیں، قسی عمدہ ریشم سے تیار کیا جانے والا ایک پھول دار لباس ہوتا ہے، یہ مصر سے لایا جاتا ہے اور عصفر بوٹی سے خوب رنگے ہوئے لباس کو مُفْدَم کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یزید راوی نے مِیْثَرَۃ کے معانی درندوں کے چمڑے کے کیے ہیں، لیکن امام نووی نے کہا: یہ باطل تفسیر ہے اور محدثین کے اجماع کے مخالف ہے۔