الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ يُقَالُ لَهُ فَلَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُجِيبٍ قَالَ لَقِيَ أَبُو ذَرٍّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَجَعَلَ أُرَاهُ قَبِيعَةَ سَيْفِهِ فِضَّةً فَنَهَاهُ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ إِنْسَانٍ أَوْ قَالَ أَحَدٍ تَرَكَ صَفْرَاءَ أَوْ بَيْضَاءَ إِلَّا كُوِيَ بِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مجیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کی مٹھی چاندی سے بنا رکھی تھی، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان بھی چاندی یا سونا چھوڑ کر جائے گا تو اس کو اس کے ساتھ داغا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سونے اور چاندی کا کاروبار کرنا، ان کو اپنے پاس رکھنا، عورت کا دونوں کا زیور پہننا اور مرد کے لیے چاندی کا استعمال کرنا، یہ سب امور جائز اور حلال ہیں، اس حدیث میں دراصل دنیوی زینت و آرائش سے نفرت دلائی جا رہی ہے، کیونکہ زیادہ تر دنیوی مال و دولت خرابی کا ہی باعث بنتا ہے۔