حدیث نمبر: 7927
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا لباس پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ وہ قمیص ہے یا پگڑی اورپھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہٖ اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہُ، وَاَعَوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہے، تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا، (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ )

وضاحت:
فوائد: … کسی انداز میں اس لباس کانام لیا جا سکتا ہے، مثلا: ھٰذَا قَمِیْصٌ، ھٰذِہٖ عَمَامَۃٌ، ھٰذَا رِدَائٌ، رَزَقَنِیَ اللّٰہُ قَمِیْصًا، اَعْطَانِیَ اللّٰہُ ھٰذِہِ الْعَمَامَۃَ، یا اس قسم کا کوئی جملہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7927
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4020، والترمذي: 1767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11489»