الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ يَا يَقُولُ مَنِ اسْتَجَدَ ثَوْبًا باب: نیا کپڑا پہننے والے کی دعا کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَجَدَّ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ فَقَالَ حِينَ يَبْلُغُ تَرْقُوَتَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ قَالَ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ تَعَالَى وَفِي جِوَارِ اللَّهِ وَفِي كَنَفِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا حَيًّا وَمَيِّتًا حَيًّا وَمَيِّتًا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیا لباس زیب تن کرے اور پہنتے ہوئے جب وہ کپڑا ہنسلی کی ہڈی تک پہنچے تووہ یہ دعا پڑھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِیْ (ساری تعریف اس اللہ کے لئے، جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس کے ساتھ میں اپنی شرمگاہ چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت اختیار کرتا ہوں۔) پھر پرانے لباس کا صدقہ کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ، اس کی پناہ اور اس کی حفاظت میں آ جاتا ہے، وہ زندہ ہو یا میت، وہ بقید حیات ہو یا بقید ممات، وہ زندہ ہو یا میت، (وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جائے گا)۔