حدیث نمبر: 7923
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں،کیونکہ ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگر پیشاب سے رنگنے کی بات درست ہو تو اس سے کپڑے کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ رنگے کے بعد جب اس کو دھویا جائے گا تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسا پیشاب کپڑے کے ساتھ تو نہیں لگا رہتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7923
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن الحسن البصري لم يلق عمر ولا أُبيا، لكن قد صح نھي عمر عن متعة الحج، وأما شطره الثاني فقد جاء من طرق عن عمر، وھي وان كانت منقطعة لكن بمجموعھا تدل علي ان لھا اصلا عن عمر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»