الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُمَامَةِ وَالسَّرَاوِيل وَحُلل الْجِبَرَةِ باب: پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں،کیونکہ ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔