الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُمَامَةِ وَالسَّرَاوِيل وَحُلل الْجِبَرَةِ باب: پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
حدیث نمبر: 7921
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأَجْرِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا مخرمہ عبدی رضی اللہ عنہ ہجر سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت لے کر وزن کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ بائع کو چاہیے کہ جب وہ کوئی چیز بیچے تو جس مقدار کا سودا ہوا ہو، اپنی رضامندی سے اس مقدار میں کچھ مقدار کا اضافہ کر دے، اس سے برکت ہو گی، ان شاء اللہ۔