حدیث نمبر: 7915
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِشِمَالِهِ وَقَالَ أَنْعِلْهُمَا جَمِيعًا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيَحْفَهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جوتا پہنے تو وہ دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب اتارے تو بائیں پاؤں سے ابتدا کرے اور دونوں جوتے پہن کر چلے۔ ایک روایت میں ہے: جب ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو آدمی ایک جوتے میں نہ چلے، بلکہ دونوں جوتے اتار لے، یا دونوں پہن لے۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میں جوتا پہننے کے آداب کا ذکر ہے، پہنتے وقت دائیں پاؤں کو مقدم کرنا چاہیے، جبکہ اتارتے وقت پہلے بائیں پاؤں سے اتارنا چاہیے۔ عصرِ حاضر میں ایسی سنتوں سے مسلمان غافل ہو چکے ہیں، اس کی دو وجوہات ہیں: ایک، جہالت کا غلبہ ہے اور دوسرا، اسلامی تربیت کرنے والے لوگوں کا فقدان ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بزعمِ خود ایسے داعیانِ اسلام بھی موجود ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ یہ آداب کمتر اور گھٹیا ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7179»