حدیث نمبر: 7904
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ فَقَالَ أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ فَقَالَ فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا أَظُنُّهُ قَالَ وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر سفید رنگ کا کپڑا دیکھ کر پوچھا: یہ نیا ہے یا دھویا ہوا ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ دعا دی: اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا : (تم نیا لباس پہنو، قابل تعریف حالت میں زندگی گزارواور شہادت کی موت پاؤ)۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا بھی دی تھی: اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق لباس اور وضع قطع کا خیال رکھنا چاہیے، یہ اللہ تعالی کی نعمت اور اس پر شکر ادا کرنے کا تقاضا ہے، ہاں اس وجہ سے فخرو مباہات، نمود و نمائش، ریاکاری اور تکبر سے بچنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3558 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5620»