الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّظَّافَةِ وَإظْهَارِ نِعْمَةِ اللَّهِ باللباسِ الْحَسَنِ وَمَا يَسْتَحِبُّ لُبْسُهُ باب: صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا¤اور مستحب ملبوسات کا بیان
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ وَفِي رِوَايَةٍ فَرَآنِي رَثَّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قُلْتُ نَعَمْ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ وَإِبِلِهِ وَغَنَمِهِ وَرَقِيقِهِ فَقَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ وَفِي لَفْظٍ فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے اپنے اوپر ایک یا دو چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور میری حالت پراگندہ سی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطاء کر رکھا ہے، گھوڑے ہیں، اونٹ ہیں، بکریاں ہیں اور غلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت کے اثرات تجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ میں یہ سن کر پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کا حلہ پہن رکھا تھا۔