الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّظَّافَةِ وَإظْهَارِ نِعْمَةِ اللَّهِ باللباسِ الْحَسَنِ وَمَا يَسْتَحِبُّ لُبْسُهُ باب: صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا¤اور مستحب ملبوسات کا بیان
حدیث نمبر: 7899
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو، پس اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے لوگوں سے ملتے وقت اچھی ہیئت اختیار کرنی چاہیے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ جمعہ کے روز اور مختلف وفود سے ملاقات کے وقت پہننے کے لیے فلاں ریشمی پوشاک خرید لیں، آگے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم ہونے کی وجہ تردید کی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقصد کی تردید نہیں کی تھی۔