الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّظَّافَةِ وَإظْهَارِ نِعْمَةِ اللَّهِ باللباسِ الْحَسَنِ وَمَا يَسْتَحِبُّ لُبْسُهُ باب: صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا¤اور مستحب ملبوسات کا بیان
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس سر کے بالوں کو سنوارنے کے اسباب نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور آدمی کو دیکھا، اس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ اپنا لباس دھو سکے۔