حدیث نمبر: 7894
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ قَالَتْ لَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَعْطَاهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم اس کو پہچانتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بنو فلاں کی گانے والی لونڈی ہے، کیا تم پسند کرو گی کہ یہ گائے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک تھال سا دیا، اس پر اس نے گایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے اسی وجہ سے اس نے اس کو عادت بنا لی ہے، رہا مسئلہ کبھی کبھار، تو وہ جائز ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دینے اور اس گانے والی کی مذمت کرنے میں کوئی تضاد نہیں ہے، ذہن نشین کر لیں کہ اجازت دینے کا تعلق بعض اوقات سے ہے، جائز کلام سے ہے اور بے پردگی سے بچنے کی صورت سے ہے اور مذمت کا تعلق عادت سے ہے، بے ہودہ اور گندے کلام سے ہے اور بے پردگی سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7894
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي في الكبري : 8960، والطبراني في الكبير : 6686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15811»