الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ النهي عن اللعب بالحيوان باب: لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب¤حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7886
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میرے پاس مرغی ہوتی تو میں اسے نہ باندھتا۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تمام احادیث میں جانوروں کے ساتھ ظلم کی جو مثالیں پیش کی گئی ہیں، یہ ناعاقبت اندیش لوگوں کے کھیل ہیں، جبکہ ان کھیلوں میں جانوروں کے ساتھ بڑا ظلم کیا جا رہا ہے، شریعت تو ذبح کے وقت بھی جانور کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیتی ہے، یعنی ذبح کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے جانور کو کم از کم تکلیف کا احساس ہو۔ایسے تمام کھیل ناجائز ہیں، جانوروں کو لڑانابھی اسی میں داخل ہے۔