الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ النهي عن اللعب بالحيوان باب: لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب¤حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7885
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَارَ الْإِمَارَةِ فَإِذَا دَجَاجَةٌ مَصْبُورَةٌ تُرْمَى فَكُلَّمَا أَصَابَهَا سَهْمٌ صَاحَتْ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ہشام بن زید کہتے ہیں: میں اپنے دادا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ دارالامارت میں داخل ہوا، پس کیا دیکھا کہ زندہ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی ہے، جب اسے تیر لگتا تو وہ چلاتی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔