الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ النهي عن اللعب بالحيوان باب: لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب¤حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7884
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہشام بن زید بن انس بن مالک کہتے ہیں: ہم اپنے دادا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر داخل ہوا، کچھ لوگ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ زندہ جانور کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کی جائے۔