حدیث نمبر: 7883
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ مَنْزِلِهِ فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ نَصَبُوا طَيْرًا يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ قَالَ فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنہوں نے پرندہ گاڑ رکھا تھا اور اس پر نشانہ بازی کررہے تھے، انہوں نے پرندے کے مالک کو نشانے پر نہ لگنے والا ہر تیر دینے کا تقرر کر رکھا تھا، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکو دیکھا تو وہ بھاگ گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے دریافت کیا: یہ کس نے کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ذی روح اور جاندار چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7883
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6259»