الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ النهي عن اللعب بالحيوان باب: لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب¤حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7882
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالَ فَتَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے سے گزر رہا تھا، کچھ نوجوان مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے اور انھوں نے مرغی کے مالک کو ہر وہ تیر دینا تھا، جو نشانے پر نہیں لگتا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمایہ منظر دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا: کس نے ایسے کیا ہے؟ پس وہ تتر بتر ہو گئے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو حیوان کا مثلہ کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موقع پر حیوان کا مثلہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس جانور کو ذبح کرنا ممکن ہو، اس پر تیر چلائے جائیں، جن کی وجہ سے اس کا چہرہ زخمی ہو جائے اور اس کی صورت بدل جائے اور تیر لگنے سے اس کے گوشت کے ٹکڑنے گرنے لگیں۔