الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ النهي عن اللعب بالحيوان باب: لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب¤حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7880
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ ذُو الرُّوحِ غَرَضًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ جانور کے ساتھ ظلم ہے، ذبح اور شکار کے طریقے پچھلے ابواب میں گزر چکے ہے، جس شکاری جانور یا پرندے کو ذبح کرنا ممکن ہو جائے، اس کو ذبح ہی کیا جائے گا۔