الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي لَعْبِ الْحَبَشَةِ وَرَقْصِهِمْ باب: حبشیوں کے کھیل اور رقص کا بیان
حدیث نمبر: 7879
عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَالَ جَابِرٌ هُوَ اللَّعِبُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر چیز دیکھی ہے، صرف اس دور کی ایک چیز نہیں دیکھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عید الفطر کے دن کھیل پیش کیا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز طریقہ سے صحابہ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں مسرت کا اظہار کرتے تھے، یہ خوشی کے وقت اور عید اور شادی وغیرہ کے موقع پر جائز ہے، لیکن وہ آلات استعمال نہ کئے جائیں جو ناجائز ہیں۔