الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَاب جَوَازِ الضَّرْبِ بِالدُّفْ فِي الْعِيدَيْنِ وَنَحْوِهِمَا باب: عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 7876
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو لونڈیاں دو دف بجارہی تھیں، انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس پر وہ خوشی کرتی ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … ثابت ہوا کہ بچیاں دُف (ڈھولکی) بجا کر جائز کلام، وہ نظم ہو یا نثر، پڑھ سکتی ہیں، ہمیں بھی شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر ایسا ہی اندازِ خوشی اپنانا چاہئے، نہ کہ بے پردگی اور بے حیائی پر مشتمل باطل رسومات۔