الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
أَبْوَبُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذَلِكَ ¤بَاب لَهُوَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ باب: لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب¤خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ رَمْيَةُ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔