حدیث نمبر: 7871
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔

وضاحت:
فوائد: … تیر اندازی اور گھوڑے کی تربیت کا تعلق جہاد سے ہے، اس لیے یہ بڑے عظیم اعمال ہیں، البتہ عورت کے ساتھ کھیلنا، اس سے میاں بیوی کے مابین بڑی محبت پیدا ہوتی ہے، اس لیے جائز کھیل کا اہتمام کرنا چاہیے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑ کا مقابلہ کیا تھا۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ رَمْيَةُ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بمجموع طرقه وشواھده، أخرجه ابوداود: 2513 وأخرج القطعة الاخيرة بنحوه مسلم: 1919 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»