حدیث نمبر: 7855
۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رَأَیْتُ کَأَنِّی أَتَیْتُ بِکُتْلَۃِ تَمْرٍ فَعَجَمْتُہَا فِی فَمِی فَوَجَدْتُ فِیہَا نَوَاۃً آذَتْنِی فَلَفَظْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرٰی فَعَجَمْتُہَا فَوَجَدْتُ فِیہَا نَوَاۃً فَلَفَظْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرٰی فَعَجَمْتُہَا فَوَجَدْتُ فِیہَا نَوَاۃً فَلَفَظْتُہَا۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: دَعْنِی فَلْأَعْبُرْہَا قَالَ: قَالَ: ((اُعْبُرْہَا۔)) قَالَ ہُوَ جَیْشُکَ الَّذِی بَعَثْتَ یَسْلَمُ وَیَغْنَمُ فَیَلْقَوْنَ رَجُلًا فَیَنْشُدُہُمْ ذِمَّتَکَ فَیَدَعُونَہُ ثُمَّ یَلْقَوْنَ رَجُلًا فَیَنْشُدُہُمْ ذِمَّتَکَ فَیَدَعُونَہُ ثُمَّ یَلْقَوْنَ رَجُلًا فَیَنْشُدُہُمْ ذِمَّتَکَ فَیَدَعُونَہُ قَالَ: ((کَذٰلِکَ۔)) قَالَ الْمَلَکُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا ہے، میں نے اس میں سے کچھ کھجوریں جمع کی ہیں اور منہ میں ڈال لی ہیں، میں نے ان میں ایسی گٹھلی پائی کہ جس سے مجھے تکلیف ہوئی، میں نے وہ کھجوریں منہ سے پھینک دی ہیں، پھر میں نے اور لے لیں اور انہیں جمع کیا ہے، ان میں گٹھلی موجود تھی، انہیں بھی میں نے پھینک دیا ہے، پھر اور لے لیں اور جمع کرکے منہ میں ڈالی ہیں ،ان میں بھی میں نے گٹھلی پائی اور انہیں پھینک دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس کی تعبیر کی اجازت دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر کرو۔ انہوں نے کہا: اس سے مراد آپ کا وہ لشکر ہے جو آپ نے بھیجا ہے وہ صحیح سلامت آئے گا اور مال غنیمت لے کر آئے گا، وہ ایک آدمی سے ملیں گے، وہ انہیں آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے چھوڑ دیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑدیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا حوالہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑ دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نے مجھے یہی تعبیر بتلائی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7855
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، أخرجه الدارمي: 2162، والحميدي: 1296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15288 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»