حدیث نمبر: 7853
۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفَہُ ذَا الْفَقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ وَہُوَ الَّذِی رَأٰی فِیہِ الرُّؤْیَا یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَیْتُ فِی سَیْفِی ذِی الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُہُ فَلًّا یَکُونُ فِیکُمْ وَرَأَیْتُ أَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا فَأَوَّلْتُہُ کَبْشَ الْکَتِیبَۃِ وَرَأَیْتُ أَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ فَأَوَّلْتُہَا الْمَدِینَۃَ وَرَأَیْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللّٰہُ خَیْرٌ فَبَقَرٌ وَاللّٰہُ خَیْرٌ فَکَانَ الَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور انعام دی، یہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک شگاف اور رخنہ دیکھا ہے، اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہارے اندر رخنہ پڑے گا (یعنی شکست ہوگی)، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے، میں نے تاویل کی ہے کہ دشمن لشکر کا بہادر شہید ہوگا، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ محفوظ رہے گا اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے، اللہ بھلائی والا ہے اور اللہ بھلائی والا ہے ۔ وہی ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ تعبیریں غزوۂ احد کے موقع پر پوری ہوئیں، گائے ذبح ہونے کی تعبیر اسی غزوہ کے موقع پر ستر صحابۂ کرام کی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرج أوله الي قوله يوم احد : الترمذي: بعد الحديث: 1561، وابن ماجه: 2808، وأخرج بأطول مما ھنا الحاكم: 2/ 128، والبيھقي: 7/ 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2445 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»