حدیث نمبر: 7849
۔عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((أُتِیتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْہُ حَتَّی جَعَلَ اللَّبَنُ یَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِی ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَمَا أَوَّلْتَہُ؟ قَالَ: ((الْعِلْمُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا، یہاں تک کہ دودھ میرے ناخنوں سے پھوٹنا شروع ہو گیا، پھر جو بچ گیا، وہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد علم ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ثابت ہوا خواب میں دودھ پینا یا کسی کو دینا یہ علم دین کی اشاعت ہے اور اس علم دین کو حاصل کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3681، 7006، ومسلم: 2391 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5554 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»