حدیث نمبر: 7846
۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِیتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِی یَدَیَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَکَبُرَا عَلَیَّ وَأَہَمَّانِی فَأُوحِیَ إِلَیَّ أَنْ انْفُخْہُمَا فَنَفَخْتُہُمَا فَذَہَبَا فَأَوَّلْتُہُمَا الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ أَنَا بَیْنَہُمَا صَاحِبُ صَنْعَائَ وَصَاحِبُ الْیَمَامَۃِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے، جو مجھ پہ بڑے گراں گزرے اور انہوں نے مجھے بہت غمگین کیا، میری طرف وحی کی گئی کہ آپ ان پر پھونک مار دیں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دو کذاب ہیں کہ میں جن کے درمیان ہوں، ایک صنعاء والا یعنی اسود عنسی ہے اور دوسرا صاحب ِ یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب۔

وضاحت:
فوائد: … زمین کے خزانوں سے مراد قیصر و کسری کی سلطنتیں اور مال و دولت کے خزانے ہیں، یہ خزانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو مل گئے تھے اور صنعاء اور یمامہ میں دو جھوٹوں نے نبوت کا دعوی بھی کیا تھا، لیکن ہلاکت ان کا مقدر بنی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7846
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4375، 7037، ومسلم: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8249 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»