حدیث نمبر: 7845
۔قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْیَا رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الَّتِی ذَکَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَکَرَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ أَنَّہُ وُضِعَ فِی یَدَیَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَفَظِعْتُہُمَا فَکَرِہْتُہُمَا وَأُذِنَ لِی فَنَفَخْتُہُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُہُ کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ۔)) قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ أَحَدُہُمَا الْعَنْسِیُّ الَّذِی قَتَلَہُ فَیْرُوزُ بِالْیَمَنِ وَالْآخَرُ مُسَیْلِمَۃُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو کنگن سونے کے رکھ دئیے گئے ہیں، میں ان کی وجہ سے گھبرا گیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا، مجھے اجازت ملی کہ میں ان پر پھونک ماروں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے ، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ یہ نمودار ہونے والے دو جھوٹے نبی ہوں گے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: ایک ان میں سے اسود عنسی ہے، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔

وضاحت:
فوائد: … پھونک مارنے سے مراد ان جھوٹے مدعیان نبوت کی ہلاکت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4379، 7033، وأما قول ابن عباس فيه: ذُكر لي فقد جاء من غير ھذا الطريق ان الذي حدثه بذالك وھو ابو ھريرة فقد أخرجه البخاري: 3621، 4374، ومسلم: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2373 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»