حدیث نمبر: 7842
۔حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِیلَ الْجُشَمِیُّ عَنْ شَیْخٍ لَہُمْ یُقَالُ لَہُ جَعْدَۃُ أَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم رَأٰی لِرَجُلٍ رُؤْیَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ فَجَائَ فَجَعَلَ یَقُصُّہَا عَلَیْہِ وَکَانَ الرَّجُلُ عَظِیمَ الْبَطْنِ قَالَ فَجَعَلَ یَقُولُ بِأُصْبُعِہِ فِی بَطْنِہِ ((لَوْ کَانَ ہَذَا فِی غَیْرِ ہَذَا لَکَانَ خَیْرًا لَکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو اسرائیل جشمی اپنے قبیلے کے جعدہ نامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خواب میں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ خواب اس کے سامنے بیان کیا، وہ آدمی بڑے پیٹ والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی اس کے پیٹ میں لگا کر فرمانے لگے: اگر یہ اس پیٹ کی جگہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں بڑا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیٹ کے بجائے دوسرے اعضا میں یہ بڑا پن ہوتا، جیسے بازو یا سر وغیرہ، پیٹ بڑا ہونے کی بجائے اس کی ذہانت اور عقل زیادہ ہوتی تو یہ بہتر ہوتا، پیٹ کے بڑا ہونے میں تو کوئی خوبی نہیں ہے، بلکہ یہ تو قابل مذمت چیز ہے، کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، طبیعت میں کاہلی اور سستی آ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7842
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو اسرائيل الجشمي في عداد المجھولين، أخرجه القصة الاولي الطبراني في الكبير : 2185، والحاكم: 4/ 121، والقصة الثانية النسائي في الكبري : 10903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18984 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»