الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
فَصْلٌ فِي حَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ فِي نَقْضِ الْوُضُوءِ بِمَسِّ الذَّكَرِ باب: ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ¤کی حدیث کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَجَدْتُّ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: لَا وَضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ)) قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ يَسْأَلُهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مِنْ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُعروہ بن زبیر کہتے ہے: جب مروان مدینہ منورہ پر حکمران تھا، اس دوران اس نے ذکر کیا کہ جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ شرمگاہ کو لگا دے گا تو وہ وضو کرے گا، لیکن میں نے اس کی اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شرمگاہ کوچھونے والے پر کوئی وضو نہیں ہے۔ مروان نے کہا: سیدہ بسرہ ؓ نے مجھے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نواقضِ وضو ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ لیکن مروان سے میرا مجادلَہُ جاری رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنے محافظوں میں سے ایک آدمی کو بلا کر اسے سیدہ بسرہؓ کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھ کر آئیں، جو اس نے اس (مروان) کو بیان کی تھی، سیدہ بسرہ ؓ نے جواباً وہی حدیث ذکر کی،جو مروان نے مجھے ان کے واسطے سے بیان کی تھی۔