الفتح الربانی
كتاب تعبير الرؤيا— خوابوں کی تعبیر کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا باب: خوابوں کی تعبیر کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ بِالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَهُ رَجُلٌ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعُنِّي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْبُرْهَا قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ تَنْطِفُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوْصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ لَا تُقْسِمْ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک خواب دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائباں ہے،اس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اُس سے چُلو بھر رہے ہیں، کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم۔ادھر ایک رسی ہے، جو زمین سے آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ میں نے آپ کودیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا اور وہ بھی چڑھ گیا، پھرایک تیسرے آدمی نے پکڑا، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر ایک آدمی نے اس کو پکڑا لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی،پھر اسے جوڑاگیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی تعبیر بیان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) تم اس کی تعبیر بیان کرو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سائبان اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والے شہد اور گھی سے مراد قرآن کی مٹھاس ہے۔ پس کوئی قرآن کا زیادہ حصہ سیکھنے والا ہے اور کوئی کم اور جو آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی ہے، وہ حق ہے، جس پر آپ قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سربلند فرمائے گا۔ پھر اس کو ایک آدمی پکڑے گا، وہ بھی اس کے ساتھ بلندی پر فائزہوگا، پھر اس کو ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا،پھر اس کو تیسرا آدمی پکڑے گا، پس وہ ٹوٹ جائے گی۔ پھر اس کو جوڑا جائے گا، پھر وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں، مجھے بتلائیے میری یہ بیان کردہ تعبیر صحیح ہے یا غلط؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض حصہ درست بیان کیا اور بعض میں غلطی کی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ ضرور میری غلطی کو بیان کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! قسم نہ اٹھاؤ۔