حدیث نمبر: 7822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا اور تم میں سب سے زیادہ سچا اس کا خواب ہے، جو زیادہ سچ بولنے والا ہوگا۔خواب کی تین اقسام ہیں: اچھا خواب، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہے، وہ خواب جو آدمی کے دلی خیالات ہوتے ہیں، غمگین کرنے والا خواب، یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی ایک ایسے خواب کو دیکھے جو ناپسند کرتا ہے، تو وہ کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب میں بیڑی دیکھنا پسند ہے اور طوق دیکھنا ناپسند ہے، کیونکہ بیڑی دین میں مضبوطی کی علامت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں خواب کی تین اقسام بیان کی گئیں ہیں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7822
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7630»