حدیث نمبر: 7814
عَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا مُعَلَّقَةٌ بِرِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا صَاحِبُهَا فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ وَلَا تُحَدِّثُوا بِهَا إِلَّا عَالِمًا أَوْ نَاصِحًا أَوْ لَبِيبًا وَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پاؤں کے ساتھ لٹکا دیا گیا ہے، یہ اس وقت تک ہے کہ جب تک اس کی تعبیر نہ کر دی جائے، جب اس کی تعبیر کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے اور اس کا ذکر صرف عالم سے یا خیر خواہ سے یا عقلمند سے کیا کرو اور نیک خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں دو اہم مسائل کا ذکر ہے، خواب اپنی تعبیر کے مطابق واقع ہو گا، خواب کس کو بیان کرنا چاہیے اور کیوں؟ دونوں کی وضاحت درج ذیل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 6055، والطبراني في الكبير : 19/ 463 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16284»