الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفُجَاةِ باب: اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 7807
عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبید بن خالد رضی اللہ عنہ ، جو صحابۂ کرام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ناگہانی موت غضب الٰہی کی گرفت ہے۔ وہ بعض اوقات اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔