الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ إِثْمِ الْفَارُ مِنَ الطَّاعُونِ وَثَوَابِ الصَّابِرِ فِيهِ باب: طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 7806
عَنْ مُعَاذَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت طعنہ زنی اور طاعون سے فنا ہوگی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون سے کیامراد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون میں انسان کی گردن میں اونٹ کی گلٹی کی مانند گلٹی نکلتی ہے، جو آدمی اس طاعون میں ٹھہرا رہا، وہ شہید کی مانند ہے اور جو اس سے بھاگ گیا، وہ میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ طاعون جس جگہ پر بپا ہو وہاں ہی صبر کرکے رہیں تو شہید کا ثواب ہے۔ اگر وہاں سے بھاگ جائیں تو اتنا گناہ ہے جتنا میدان جنگ سے بھاگ جانے والے کا ہے، جبکہ میدان جنگ سے بھاگ جانا کبیرہ گناہ ہے، اس لیے طاعون زدہ علاقے سے فرار اختیار کرنا بھی کبیرہ گناہ ہو گا۔